میری بیوی کو گھر میں اکیلے ڈر لگتا ہے، اسی لیے میں بیوی کو رکشے میں ساتھ بٹھا لیتا ہوں

میری بیوی کو گھر میں اکیلے ڈر لگتا ہے، اسی لیے میں بیوی کو رکشے میں ساتھ بٹھا لیتا ہوں

آج ہم دونوں رکشے میں بیٹھے تو منظر عجیب تھا. بوڑھے ڈرائیور کے ساتھ اس کی سفید بالوں والی بیوی بھی بیٹھی تھی. ہم نے ڈرائیور سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ ہماری شادی کو چالیس سال ہو گئے ہیں. میری بیوی نو مرتبہ حاملہ ہوئی لیکن ہر بار اس کا حمل گر جاتا. صدمے سے یہ ڈپریشن کا شکار ہو گئی، اسقاط حمل نے میری بیوی کے دماغ پر بہت برا اثر ڈالا. چھے سال تک میں مزدوری بھی کرتا اور گھر میں بیمار بیوی بھی سنبھالتا. پھر میں نے گاؤں کا گھر بیچا اور کراچی آ گئے، یہاں میں ایک رکشہ لیا اور باقی پیسوں سے کرائے کے گھر میں رہنے لگے..

میری بیوی کو گھر میں اکیلے ڈر لگتا ہے، اسی لیے میں بیوی کو رکشے میں ساتھ بٹھا لیتا ہوں. میں نے زندگی میں سب سے زیادہ محبت اپنی بیوی سے ہی کی ہے، اور اس نے بھی کبھی میرا اعتماد نہیں توڑا. ہم نے اس بوڑھے جوڑے کو کھانا کھانے کی دعوت دی، ایک چھوٹے سے ہوٹل میں کھانا کھایا. بوڑھے کی بیوی جو اب تک خاموش تھی بولی “آپ بہت اچھے لوگ ہو”.ہم رخصت ہوئے تو میں بڑی دیر تک انہیں جاتے ہوئے دیکھتا رہا، محبت مر نہیں سکتی محبت امر ہوتی ہے. یہ لافانی جذبہ ہے. یہ دونوں بڈھا بڑھیا بھی مر نہیں سکتے. یہ مر کر ستارے بن جائیں گے، آسمان پر چمکیں گے اور آنے والی نسلیں انہیں دیکھ کر محبت سیکھیں گی..

یہ رِدائے جاں تجھے سونپ دوں کہ نہ دھوپ تجھ کو کَڑی لگے

تجھے دکھ نہ دیں میرے جیتے جی، سرِ دشت غم کی تمازتیں

sad story urdu

میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی جبکہ میں پڑھی لکھی ہوں

میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی جبکہ میں پڑھی لکھی ہوں

میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی جبکہ میں پڑھی لکھی ہوں

میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی
جبکہ میں پڑھی لکھی ہوں
میرا نام شہزادی ہے سچ بتاوں تو میرا خواب تھا ایک پڑھا لکھا اچھا کمانے والا لڑکا
لیکن کچھ مجبوریوں میں عمران سے شادی کر دی گئی
مجھے عمر سے بدبو آتی تھی
ان کا کام اتنا اچھا نہ تھا
خیر میں اللہ کے سامنے رو کر دعا مانگتی تھی یا اللہ
یا تو عمران  کو مار دے یا پھر اس سے جان چھڑوا دو میری کسی طرح
💕وہ جاہل سا بولنے کا بھی نہیں پتا
میں ہر بات پہ عمران  کو بے عزت کر دیتی
تنقید کرتی عمران پہ غصہ کرتی
عمران  مجھے پیار سے سمجھاتا
کبھی چپ ہو جاتا
کبھی غصہ ہو کر گھر سے باہر چلا جاتا
💕
میں ایک بار جھگڑ کر امی ابو کے پاس چلی گئی اور ضد کی کے بس طلاق لینی ہے عمر سے
امی ابو نے بہت سمجھایا کے بیٹی لڑکا اچھا ہے نہ کرو ایسا
بس بیچارہ پڑھا لکھا نہیں ہے
باقی کیا کبھی اس نے تم پہ ہاتھ اٹھا یا یا گالی دی ہو
لیکن میں بس طلاق لینا چاہتی تھی
میں نے جھوٹ بولا کے وہ خرچہ نہیں دیتا مجھے
امی ابو نے عمران  کو بلوا لیا
وہ میرے سامنے بیٹھا تھا
امی ابو کہنے لگے عمران  کیوں بھای تم شہزادی کو خرچہ کیوں نہیں دیتے
💕عمران بابا سے مخاطب ہو کر بولا
انکل جی جو کما کر لاتا ہوں سب اخراجات نکال کر جو بچتا یے شہزادی ہاتھ پہ رکھ دیتا ہوں
میرے چاچا تایا سب موجود تھے وہاں
میں بولی مجھے 30 ہزار روپے ہر مہینے چاہئے بس
اس شرط پہ ہی جاوں گی میں عمران  کے ساتھ.
عمران  خاموش ہو گیا
سر جھکائے بیٹھا تھا
💕چاچا بولے ہاں عمران  دے سکتے ہو خرچہ 30 ہزار
کچھ لمحے خاموش رہا پھر میری طرف دیکھنے لگا
لمبی سانس کی بولا ٹھیک ہے میں شہزادی کو 30 ہزار روپے دوں گا الگ سے ہر مہینے
میں نے دل کی گالی دی کمینے دیکھنا جینا حرام کر دوں گی تمہارا
میں عمران  کے ساتھ چلی گئی
ہم بجلی پانی گیس کا بل راشن کھانا سب اخراجات بھی تھے
💕عمران  سے جب بھی پوچھا کیا کام کرتے ہو تو کہتا گورنمنٹ آفس میں کام کرتا ہوں
اس کے علاوہ نہ میں کبھی پوچھا نہ انھوں نے بتایا
خیر عمران  مجھے ہر مہینے 30 ہزار روپے دیتا
ایک دن میں نے کہا مجھے آئی فون لیکر دو
میں بس تنگ کرنا چاہتی تھی کے عمران مجھے طلاق دے دے
عمران مسکرانے لگا
میرے پاوں پکڑے اور بولا شہزادی لے دوں گا پریشان نہ ہو
تم بس مجھے چھوڑ کر جانے کی بات نہ کیا کرو
جو کہو گی کروں گا
میں کبھی کھانے میں مرچ ڈال دیتی تو کبھی زیا دہ نمک
وہ تھکا ہارا کام سے آتا کھانا کھا کر بے ہوشی کی طرح سو جاتا
💕نہ جانے کون سا کام کرتا تھا کے اتبا تھک جاتا ہے
میں جتنی نفرت کرتی تھی اس جاہل سے وہ اتنی محبت کرتا تھا
میں ایک دن اپنی دوست کے ساتھ کار میں شاپنگ کرنے جا رہے تھے شہر کے سب مہنگے اور بڑے مال میں
جب ہم ایک بس اڈے کے پاس سے گزرے تو
میری زندگی نے جو لمحہ دیکھا
میں بے جان ہو گئی
وہ عمران  جسے میں بہت نفرت کرتی تھی
💕جس کو میں جاہل ان پڑھ کہتی تھی
جس کو کبھی میں نے پیار سے کھانا تک نہ دیا تھا
جس کا کبھی حال نہ پوچھا تھا
جسے میں انسان ہی نہیں سمجھتی تھی
جسے میں قبول ہی نہیں کرنا چاہتی تھی
وہ عمران  سر پہ بوجھ اٹھائے کسی کا سامان بس پہ چڑھا رہا تھا
ٹانگیں کانپ رہی تھی
پرانے سے کپڑے پہنے
پسینے سے شرابور
پاوں میں ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی
💕فارس میں مر کیوں نہ گئی تھی
وہ میرے لیئے کیا کچھ کر رہا تھا
اتنے میں ایک شخص بولا اوئے چل یہ سامان اٹھا اور دوسری بس کئ چھت پہ لوڈ کر
عمران  کو شاید بھوک لگی تھی
ہاتھ میں روٹی پکڑی رول کیا ہوا
ساتھ روٹی کھا رہا تھا ساتھ سامان اٹھا رہا تھا
میں قربان جاوں
میرا عمران  میرے لیئے کس درد سے گزر رہا تھا
میں آنسو لیئے دیکھتی رہی
کام ختم ہوا
وہاں سائیڈ پہ ایک دکان کے سامنے زمین پہ بیٹھ گیا
کتنی بے بسی تھکن تھی عمران  میں
سارا دن وہاں درد سہنا رات کو میری باتیں
فارس سر وہ حادثہ تھا یا اللہ کی مرضی بس میرا دل بدل گیا
💕میں بن بتائے کچھ خریدے گھر واپس لوٹ گئی
بہت روئی تھی بہت زیادہ
عمران  کو پلاو پسند تھا میں نے پلاو بنایا
عمران  گھر آیا
میں اسے کھانا نہیں دیتی تھی خود گرم کر کے کھاتا تھا
گھر آیا
مجھ سے سلام کیا کچن میں گیا
پلاو دیکھ کر بولا شہزادی آج تو آپ نے کمال کر دیا
ایک سال بعد پلاو کھانے لگا ہوں
فارس سر کھانا پلیٹ میں ڈال کر میرے پاس بیٹھ گئے کھانا کھانے لگے میں عمران  کی طرف دیکھے جا رہی تھی
عمران  کتنا درد سہتا ہے اور بتاتا بھی نہیں
میں کتنی اذیت دیتی ہوں کوئی شکوہ نہیں
عمران  پہ آج مجھے بہت پیار آ رہا تھا
دل چاہ رہا تھا سینے سے لپٹ جاوں
عمران  نے کھانا کھایا
پھر جیب سے پیسے نکالے کہنے لگا یہ لو شہزادی 30 ہزار
میں چیخ چیخ کر رونے لگی عمران  کے پاوں چوم لیئے
عمران  مجھے کچھ بھی نہیں چاہئے
مجھے یہ پیسے نہیں چاہئے
عمران  حیران تھا مجھے کیا ہو گیا ہے
عمران  نے میرا ہاتھ تھاما بولے
اگر یہ پیسے کم ہیں تو اور لا دوں گا مجھے چھوڑ کر نہ جانا
💕کہنے لگے شہزادی بہت بھولی ہو تم
پاگل تم بچھڑنے کے بعد کہاں بھٹکو گی خدا جانے
بہت پیار کرتا ہوں نا تم سے اسلیئے تم کو خود سے دور نہیں کر سکتا
میں عمران  کے سینے سے لگ گئی آج مجھے
نہ کوئی آئی فون چاہئے تھا نہ کوئی بڑا گھر گاڑی
مجھے اب دنیا کی کوئی خبر نہ تھی میری دنیا عمران  بن چکا تھا
ہم عورتیں کیسے منہ پھاڑ کر کہہ دیتی ہیں جب کھلا نہیں سکتے تھے تو شادی کیوں کی
بات بات پہ جھگڑا اور طعنے شروع کر دیتی ہیں
کبھی اہنے شوہر کا وہ چہرہ دیکھنا جس میں نے عمران  کا دیکھا تھا
خدا کی قسم ہم ایک سانس نہ لے سکیں اس ماحول میں یہاں مرد اپنی فیملی کے لیئے خود کو قربان کر دیتا ہے
جتنے شوہر کماتا ہے اس پہ خوش رہو
پیسہ بھی سب کچھ نہیں ہوتا
خدا کی قسم مجھے بڑی گاڑیوں اور اے سی والے محل میں وہ سکون نہیں ملا جس سکون عمران  کی بانہوں میں آتا ہے
جو سکون عمران  کا سر دبانے میں آتا ہے ۔جو سکون
عمران  کی پسند کے کھانے بنانے میں آتا ہے
ہمسفر کی بے بسی کو سمجھو تو سہی
💕دیکھ تو سہی
آپ کبھی جھگڑا نہیں کریں گی
عمران  اب میری زندگی ہے
اور میں عمران  کی شہزادی
شاید کوئی لڑکی سنبھل جائے یہ پڑھ کر

میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی جبکہ میں پڑھی لکھی ہوں

Top 5 Best Sad Story In Urdu, True Love Story, Heart Touching Love Story

Top 5 Best Sad Story In Urdu, True Love Story, Heart Touching Love Story

sad story in urdu

“سچی محبت”

ایک بار ایسا ہوا کہ ہم میاں بیوی میں چھوٹی سی بات پر لڑائ ہو گئ, گرمیوں کی رات تھی ہم دونوں اپنی اپنی جگہ پر سو گئے. آدھی رات کو مجھے پیاس لگی واٹر کولر پاس ہی میز پہ پڑا ہوا تھا میں نے خود اٹھ کر پانی پیا. اچانک میں نے مڑ کے دیکھا تو وہ مجھے غصے سے دیکھ رہی تھی اور بولی کہ آپ نے پانی خود کیوں پیا…؟ میں نے بھی غصے اور اکڑپن سے جواب دیا ہاتھ,پاؤں سلامت ہیں خود پی سکتا ہوں مفلوج نہی ہوں……

وہ قریب آ کر میرا گریبان پکڑ کر بولی کہ ایک بات غور سے سنو لڑائ اپنی جگہ لیکن میں اپنا حق اور خوشی نہیں چھیننے دوں گی. پتہ ہے آپ کو پانی دیتے ہوئے مجھے کتنی خوشی ہوتی بھلے ہی بات چیت بند کیوں نہ ہو لیکن پانی آپ خود نہیں پئیں گے….. اس کی آنکھیں نم اور نازک سرخ تھیں اسے گلے لگایا اور جھگڑا ختم کر دیا.

اور اب دس سال بعد

جب رات کو تین بجے پانی پینے کیلیے اٹھتا ہوں تو دیوار پہ لگی اس کی خوبصورت تصویر بھیگ جاتی ہے یا شاید میں اسے بھیگی ہوئ آنکھوں سے دیکھتا ہوں اور یاد آتا ہے وہ کہتی تھی کہ “محبت” مر نہیں سکتی..

اپنے قریب لوگوں کی زندگی میں ہی قدرکیجئے

sad story in urdu
Sad Story In Urdu

میں نے تمہیں کبھی بددعا نہیں دی…

پر میرا دل کرتا ہے کہ تمہارا ایک پیارا سا بیٹا ہو.

تم اُسے خوب لاڈ پیار سے پالو بڑا کرو، پڑھاؤ لکھاؤ.

اور لڑکپن میں اسے کسی لڑکی سے بے انتہا محبت ہوجائے

وہ لڑکی اس کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائے.

اور اپنی محبت میں جکڑ لے اور پھر اچانک گیارا سالوں بعد وہ لڑکی اس سے بے وفائی کرلے.

اور اُسے وہاں پر چھوڑ دے جب اُسے منزل بہت قریب نظر آرہی ہو اپنے سب خواب عنقریب پورے ہوتے دکھائی دے رہے ہوں تب وہ لڑکی اسے چھوڑدے.

اور تم اپنے بیٹے کا تڑپنا دیکھو.

اُسے گُم سُم پاؤ….رات بھر رونے اور جاگنے کی وجہ سے اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے دیکھو.

اس کی بیان نہ کرسکنے والی اذیت کو محسوس کرو اور پھر تم اپنی بے بسی اور نم آنکھ لئے سوچو کہ یہ سب پہلے بھی کبھی ہوچکا ہے.

تمہارے دل میں میری تصویر جھلک پڑے اور پھر تمہیں احساس ہو مکافاتِ عمل کیا ہوتا ہے.

میں نہیں چاہتا ایسا پر میرا دل چاہتا ہے.